Wednesday, May 20, 2020

سیپ ٹیچرز مستقلی میں انتہائی تاخیر حکومتی ذمہ داروں کی سازش، جلد 750سینئر حقدار اساتذہ کی مستقلی کو یقینی بناتے ہوئے باقی ماندہ 714اساتذہ کی مستقلی کی پالیسی بھی مرتب کی جائے،سیپ ٹیچرز ایسوسی ایشن خواتین ونگ گلگت بلتستان

گلگت(پ۔ر)سیپ ٹیچرز ایسوسی ایشن خواتین ونگ گلگت بلتستان کی صدر ملکہ حبیبہ سینئر نائب صدر جینوا خاتون، نائب صدر زینب خاتون جنرل سیکریٹری یاسمین، فنانس سیکریٹری گل خنزہ اور سیکریٹری انفارمیشن تسلیم بانو نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں سیپ ٹیچرز مستقلی میں انتہائی تاخیر کو حکومتی ذمہ داروں کی سازش قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ جلد 750سینئر حقدار اساتذہ کی مستقلی کو یقینی بناتے ہوئے باقی ماندہ 714اساتذہ کی مستقلی کی پالیسی بھی مرتب کی جائے۔جون 2020-21کے بجٹ میں ہر صورت اسامیاں پیدا کرکے 714اساتذہ کو بھی مستقل کیا جائے بصورت دیگر ہم اساتذہ حقوق کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔اساتذہ کو گروپس میں تقسیم کرکے حقوق سے محروم نہیں رکھا جاسکتا۔انہوں نے کہا کہ وفاقی ناکام ادارہBECS  4سال سے ٹیکسٹ بک دینے سے بھی قاصر ہے۔کبھی بھی قلیل تنخواہ ماہانہ 8000بھی وقت پر نہیں ملی ہے۔گلگت  بلتستان کے دور افتادہ غریب علاقوں میں 2عشروں سے بنیادی تعلیم دینے میں مصروف عمل 1464اساتذہ انتہائی مشکل حالات سے دوچار ہیں۔پھر کرونا کی وجہ سے لاک ڈاؤن اساتذہ کی زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی ہے۔کرونا ریلیف اور احساس پروگرام فنڈ سے بھی اساتذہ محروم ہیں۔حقیقی ریلیف کے حقدار 1464سیپ اساتذہ ہیں۔ان اساتذہ کی حالت تشویش ناک انتہائی قابل رحم ہے۔ہم خواتین ونگ گلگت  بلتستان حکومت وقت خصوصاََ وزیر اعلیٰ، چیف سیکریٹری اور فورس کمانڈر گلگت  بلتستان سے اللہ پاک کا واسطہ دے کر اپیل کرتے ہیں کہ ان غریب1464اساتذہ کو کرونا ریلیف فنڈ میں شامل کرکے مالی معاونت کی جائے۔اساتذہ کو بھی اپنے بچوں کے ساتھ عید کی خوشیاں منانے کا موقع فراہم کی جائے۔

No comments: